اک شہسوار سجدے کی خاطر روانہ ہو
نیزوں پہ ہو بلند زمیں پر گرا نہ ہو
ایسی بری ہوائیں نہ ایسا زمانہ ہو
بیمار کی دوا ہو نہ ہی آب و دانہ ہو
جس طرح سانس لینے کی خاطر ہوا نہ ہو
"کچھ بھی ہو نہ ہو جہاں میں اگر کربلا نہ ہو”
زخمِ جہاں پہ اشکوں کا مرہم لگا نہ ہو
مر جائیں تیرے غم کا اگر آسرا نہ ہو
اصغر کی لاش شاہ اٹھا لائے ہیں مگر
امِ رباب ! کاش ترا سامنا نہ ہو
زخمِ گلوئے حضرتِ شبیر کی قسم
مرجائیں روتے روتے مگر حق ادا نہ ہو
نوکِ سناں سے فتح کا اعلان ہو مگر
اس فوج کا کوئی بھی سپاہی بچا نہ ہو
کیا تونے آسمان یہ سوچا بھی تھا کبھی
آلِ نبی ہوں مجمع میں سر پر ردا نہ ہو
دربارِ شام میں یہ سکینہ کی تھی دعا
بیٹی سے کوئی باپ کبھی یوں جدا نہ ہو
